بھٹکل:17؍ڈسمبر (ایس او نیوز)فوریسٹ اتی کرم داروں کو اپنی متعلقہ زمینات کے اسناد (پٹہ) حاصل کرنے کے لئے سخت جدوجہد کرنےکی ضرورت ہے۔ ان خیالات کا اظہار اتی کرم جہد کار اور سرسی کے وکیل اے رویندر نائک نے کیا۔
بھٹکل میں فوریسٹ اتی کرم داروں سے خطاب کرتے ہوئے وکیل نائک نے کہاکہ افسران اور عوامی نمائندے اتی کرم داروں کو پٹہ دینے کے متعلق سنجیدہ نہیں ہیں ، ضلع میں ایک دن میں ہی 2982عرضیوں کو رد کرتے ہوئے ریکارڈ قائم کیاگیا ہے۔ فوریسٹ حقوق قانون کے مطابق اتی کرم داروں کو دستاویزات (زمینی ریکارڈ)کے لئے دباؤ نہیں ڈالا جاسکتا، اس کے باوجود درخواستوں کو رد کیا جارہا ہے اورمتعلقہ زمینات کے ریکارڈ س طلب کئے جارہے ہیں۔ اتی کرم داروں کو قانون کے جال میں پھنسایا جارہا ہے، انہوں نے کہا کہ جن لوگوں کی عرضیاں رد کی گئی ہیںان لوگوں کو چاہئے کہ وہ عدالت میں رٹ پٹیشن داخل کرے۔
رویندر نائک نے اتی کرم داروں پر زوردیا کہ وہ جن زمینات پر مکانات تعمیر کرکے سالہا سال سے رہتے آرہے ہیں، وہ زمینات اپنے نام کرنے سخت محنت کرے اور مسلسل جدوجہد کرتے ہوئے عوامی نمائندوں پر دباؤ ڈالنے کا کام بھی کرے۔ آگے بتایا کہ اتی کرم داروں کو پٹہ دینے کے متعلق ودھان سبھا میں ہو یا لوک سبھا میں ابھی تک کسی بھی عوامی نمائندے نے سنجیدہ گفتگو نہیں کی ہے، انہوں نے خیال ظاہر کیا کہ اتی کرم دار وں کی مشکلات کو دیکھتے ہوئےعوامی نمائندوں کو کم سے کم اجلاس میں بات اٹھانی چاہئے۔ ضلع میں 53فی صد اتی کرم داروں کی عرضیاں رد کئے جانےکے باوجود ضلع کے ارکان اسمبلی نے بیلگام میں جاری سرمائی اجلاس میں ابھی تک اس تعلق سے حکومت کو متوجہ نہیں کرایا ہے، جو بے حد افسوس کی بات ہے۔
رویندر نائک نے متنبہ کیا کہ اگر اتی کرم دار اسی طرح خاموش رہیں گے تو پھر اُنہیں پٹہ نہیں ملے گا۔ انہوں نے وعدہ کیا کہ وہ اتی کرم داروں کو انصاف ملنے تک اپنی جدوجہدرکھیں گے۔ انہوں نے اپنی بات کو دھراتے ہوئے کہا کہ اس سلسلے میں سب سے اہم کام یہی ہے کہ جن لوگوں کی عرضیاں رد کئی گئی ہیں، وہ فوری عدالت میں رٹ داخل کریں۔ اس موقع پر ہاڈولی گرام پنچایت صدر شری دھر شیٹھ، عبدالقیوم، محمد رضوان، دیوراج گونڈا، مادیو نائک، تمیا نائک ، پرمیشور مراٹھی وغیرہ موجود تھے۔